بھٹکل31/ڈسمبر (ایس او نیوز) ضلع اُترکنڑا کے مختلف حصوں میں حال ہی میں ہوئے تشدد اور پولس کے ساتھ سنگھ پریوار کارکنوں کے جھڑپوں ، پھر بی جے پی اور سنگھ پریوار کی تنظیموں کی جانب سے جگہ جگہ ہورہے احتجاج اور ضلع بھر میں حالات کو خراب کرنے کی شرپسندوں کی کوششوں کو دیکھتے ہوئے پاپولر فرنٹ آف انڈیا کی ایک اہم میٹنگ سرسی میں منعقد ہوئی جس میں تمام حالات کا جائزہ لیا گیا اور ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کی مساعی پر توجہ دی گئی۔
میٹنگ میں ریاستی پی ایف آئی صدر محمد ثاقب سمیت ضلع اُتر کنڑا کے تمام تعلقہ جات کے لیڈران شریک ہوئے، جنہوں نے اپنے اپنے علاقہ کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے حالات کو قابو میں رکھنے کے سلسلے میں کس طرح کے جتن کئے جاسکتے ہیں، اُس پر اپنے خیالات پیش کئے۔
ہوناور میں پریش میستا نامی نوجوان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہوناور میں توڑپھوڑ کے بعد مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں اور قریب ایک ماہ ہونے کے بائوجود گرفتارشدگان کی رہائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
بتایا گیا ہے کہ ہوناور میں 6 ڈسمبر کو ہوئی توڑپھوڑ اور بعد میں 8 ڈسمبر کو پریش میستا کی لاش قریبی تالاب سے برآمد ہونے کے بعد جملہ 31 لوگوں کو گرفتار کیا گیا، جو ابھی تک جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند ہیں۔ ابھی تک ضمانت منظور نہ ہونے کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ جس دن تاریخ رہتی تھی، اُس دن کبھی جج صاحب چھٹی پر تھے یا جب جج موجود تھے تو پروسیکوٹر چھٹی پر تھے، جس کی وجہ سے ضمانت پر رہائی نہ ہوسکی۔ اس بات کی بھی اطلاع دی گئی ہے کہ کل یکم جنوری کو اگلی تاریخ ہے اور ایک ملزم کو چھوڑ کر دیگر ملزمین کی ضمانت ہونے کی اُمید ہے۔
رپورٹ پیش کرتے ہوئے اس بات کی بھی جانکاری دی گئی ہے کہ سرسی میں دکانوں، کلینک، لاڈج، مسجد ، مکانات اور سواریوں پر ہوئی توڑپھوڑسے قریب 20 سے 25 لاکھ مالیت کا نقصان ہوا ہے۔ اس تعلق سے سرسی میں 62 لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور اُن پردفعہ 307 کے تحت معاملات درج کئے گئے، مگر حیرت انگیز طور پر عدالت نے سبھی کو ایک ہی دن میں ضمانت پر رہا کردیا۔ کمٹہ میں دکانیں، مسجد اور سواریوں پر پتھرائو کیا گیا، جملہ 19 جائیداد کو نقصان پہنچایا گیا ہے، مگر یہاں کے زیادہ تر عوام نے پولس تھانہ میں نقصانات کی شکایت درج نہیں کرائی، اور صرف تین ہی ایف آئی آر درج کئے گئے ۔یہاں پرتوڑپھوڑ اور پولس پر پتھرائو سمیت پولس کار کو نذر آتش کرنے کے الزام میں 30 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا ۔ ہوناور کے ماگوڈ میں ایک لڑکی پر حملہ کی افواہیں پھیلا کر جو توڑپھوڑ ہوئی، اُس کے تعلق سے بتایا گیا ہے کہ جملہ سات معاملات درج ہوئے ہیں۔
صدارتی خطاب کرتے ہوئے ریاستی پی ایف آئی صدر محمد ثاقب نے بتایا کہ ریاست میں آئندہ تین چارماہ میں ہونے والے انتخابات کو دیکھتے ہوئے پوری ریاست میں حالات خراب کرنے اور کشیدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور مسلمانوں کو ہمیشہ کی طرح اس بار بھی ووٹ بینک کے طرز پر استعمال کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد سے مسلمان بے بس ہوتے نظر آرہے ہیں اور سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کے ووٹوں کو اپنے اپنے فائدے کے لئے استعمال کررہی ہیں۔